بنگلورو24؍ستمبر(ایس او نیوز)دریائے کاویری کا پانی صرف پینے کیلئے استعمال کرنے کے سلسلے میں کل حالانکہ لیجسلیچر کے خصوصی اجلاس میں متفقہ قرار داد منظور ہوگئی ہے، لیکن اب سوال یہ پیدا ہوگیا ہے کہ سپریم کورٹ میں اگر منگلکے دن کاویری مسئلے پر سماعت کے دوران اس قرار داد کو کالعدم قرار دیا گیاتو حکومت آگے کیا کارروائی کرے گی؟۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو یہ حکم دیاتھاکہ 27؍ ستمبر تک تملناڈو کو کاویری سے روزانہ 6، ہزار کیوسک پانی فراہم کیا جائے ، تاہم ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے حکم عدولی کا تذکرہ کئے بغیر ریاستی لیجسلیچر کے دونوں ایوانوں میں یہ قرار داد منظور کرائی کہ کاویری کے پانی کا استعمال صرف پینے کیلئے کیاجائے گا۔ حکومت کے اس موقف کا مقصد عدالت کو نیچا دکھانا بھی قطعاً نہیں تھا۔وزیراعلیٰ سدرامیا نے ایوان میں یہ وضاحت بھی کردی، اور کہاکہ 27 ستمبر کو عدالت عظمیٰ سے گذارش کی جائے گی کہ کرناٹک کی صورتحال کو مدنظر رکھ کر فیصلہ سنایا جائے۔اس دوران تملناڈو حکومت نے کرناٹک میں قرار داد کی منظوری کے فوراً بعد دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کرکے گذارش کی ہے کہ اس کے حصہ کا 12.5 ٹی ایم سی فیٹ پانی اسے دے دیا جائے۔ عدالت عظمیٰ میں اس عرضی کی سماعت 27؍ ستمبر کو ہونے کا امکان ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کاویری مسئلہ پر اس سے پہلے جو فیصلہ سنایا تھا ریاستی حکومت نے اس کے خلاف 18 ستمبر کو نظر ثانی کی عرضی دائر کی تھی اور یہ توقع کی تھی کہ عدالت کا فیصلہ اس کے حق میں آئے گا ۔ عدالت نے تملناڈو کو پانی فراہم کرنے کی ہدایت کے ساتھ ریاستی حکومت کو متنبہ کیا تھاکہ پانی فراہم نہیں کیاگیا تو کاویری نگرانی بورڈ قائم کرکے اس کے ذریعہ پانی کی فراہمی کی جائے گی۔ تاہم ریاستی حکومت نے عدالت کے اس فیصلے کو ماننے سے یکسر انکار کردیا اور مرکزی حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ کسی بھی حال میں کاویری نگرانی بورڈ کی تشکیل نہ ہونے دی جائے۔اس بات پر زور دینے کیلئے وزیراعلیٰ سدرامیا فوری طور پر ایک کل جماعتی وفد دہلی لے جانے کی تیاری میں ہیں۔ کاویری نگرانی بورڈ اگر قائم کردیا گیا تو ریاستی حکومت کی کاویری آبی ذخیروں پر کوئی گرفت نہیں رہے گی اور بورڈ ہی یہ فیصلہ کرے گا کہ تملناڈو کو کب اور کس وقت پانی فراہم کیا جائے۔کل لیجسلیچر میں منظور شدہ قرار داد کے مطابق وزیر برائے آبی وسائل اور دیگر افسران نے ریاست کی نمائندگی کرنے والے فالی ایس ناریمن سے آج دہلی میں تبادلۂ خیال کیا۔